Jump to content
sunrise

Sad Poetry - اداس شاعری

Recommended Posts

 وہ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻧﻮﺍﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ
ﮐﮧ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﺭﮨﺎ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ

ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﯽ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ
ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺩﻝ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ

ﻋﺪﺍﻭﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺗﻐﺎﻓﻞ ﺗﮭﺎ، ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﮩﺖ
ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ ، ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ

ﺑﭽﮭﮍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻏﺰﻝ
ﻏﺰﻝ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ

ﮐﺴﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﻥ
صدﺍ ﺗﻮ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ

ﻋﺠﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺭﺍﮦ ﺳﺨﻦ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻧﺼﯿﺮ
ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺁﺧﺮ، ﺟﮩﺎﮞ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ

Share this post


Link to post
Share on other sites

رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

آس اُس در سے ٹوٹتی ہی نہیں
جا کے دیکھا ، نہ جا کے دیکھ لیا

وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا

آج اُن کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا

فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم
شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں

خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا
جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن
آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

اسے منا کر غرور اس کا بڑھا نہ دینا 
وہ سامنے آئے بھی تو اس کو صدا نہ دینا 

خلوص کو جو خوشامدوں میں شمار کر لیں 
تم ایسے لوگوں کو تحفتاً بھی وفا نہ دینا 

وہ جس کی ٹھوکر میں ہو سنبھلنے کا درس شامل 
تم ایسے پتھر کو راستے سے ہٹا نہ دینا 

سزا گناہوں کی دینا اس کو ضرور لیکن 
وہ آدمی ہے تم اس کی عظمت گھٹا نہ دینا 

جہاں رفاقت ہو فتنہ پرداز مولوی کی 
بہشت ایسی کسی کو میرے خدا نہ دینا 

قتیلؔ مجھ کو یہی سکھایا مرے نبیؐ نے 
کہ فتح پا کر بھی دشمنوں کو سزا نہ دینا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے 
اچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہے 

آنکھیں ہر اک حسین کی بے فیض تو نہیں 
کچھ ساگروں میں بادۂ گلفام بھی تو ہے 

پلکوں پہ اب نہیں ہے وہ پہلا سا بار غم 
رونے کے بعد کچھ ہمیں آرام بھی تو ہے 

آخر بری ہے کیا دل ناکام کی خلش 
ساتھ اس کے ایک لذت بے نام بھی تو ہے 

کر تو لیا ہے قصد عبادت کی رات کا 
رستے میں جھومتی ہوئی اک شام بھی تو ہے 

ہم جانتے ہیں جس کو کسی اور نام سے 
اک نام اس کا گردش ایام بھی تو ہے 

اے تشنہ کام شوق اسے آزما کے دیکھ 
وہ آنکھ صرف آنکھ نہیں جام بھی تو ہے 

منکر نہیں کوئی بھی وفا کا مگر قتیلؔ 
دنیا کے سامنے مرا انجام بھی تو ہے 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو 
کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو 

آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر 
کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو 

بن جائیں گے زہر پیتے پیتے 
یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو 

جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے 
تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو 

ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر 
ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا

پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں
کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا

بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی
سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا

اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے
ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

Share this post


Link to post
Share on other sites

جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا
بچھڑ کے ان سے سلیقہ نہ زندگی کا رہا

لبوں سے اڑ گیا جگنو کی طرح نام اس کا
سہارا اب مرے گھر میں نہ روشنی کا رہا

گزرنے کو تو ہزاروں ہی قافلے گزرے
زمیں پہ نقش قدم بس کسی کسی کا رہا

Share this post


Link to post
Share on other sites

احمقانہ ہے درد بیاں کرنا
عقلمندی ہے ضبط کی انتہا کرنا

Share this post


Link to post
Share on other sites

کوئی زندگی کی آزمائشوں سے گزرا
کوئی عشق کا روگ لگا بیٹھا

کوئی قلم سے درد لکھنے لگا
کوئی شاعر خود کو بنا بیٹھا

 

عظیم حیدر

Share this post


Link to post
Share on other sites

کھو کر میں کسے اور کدھر ڈھونڈ رہا ہوں

آئے نہ سمجھ کس کو اِدھر ڈھونڈ رہا ہوں

 

بھٹکا ہوا ہوں دشت کے پُر خار سفر میں

دکھلائے جو رہ ایسی نظر ڈھونڈ رہا ہوں

 

گزرے تھے جہاں سے کبھی ہم دونوں کے سائے

کب سے میں وہی راہ گزر ڈھونڈ رہا ہوں

 

پاگل ہوں میں کتنا، ہیں عجب خواہشیں میری

تاریک سی راتوں میں سحر ڈھونڈ رہا ہوں

 

اُکھڑے نہ جو طوفان سے اور تیز ہَوا سے

بکھرے نہ خزاں میں وہ شجر ڈھونڈ رہا ہوں

 

اِس دل کے دریچے میں کئی لوگ ہیں آئے

جو رُوح میں اُترے وہ نظر ڈھونڈ رہا ہوں

 

ہیں لوگ بہت پر یہاں انسان نہیں ہیں

ہو پورا جو انساں وہ بشر ڈھونڈ رہا ہوں

 

کتبہ ہو لکھا جس پہ ترے نام کا فیصلؔ

وہ قبر میں ہر ایک نگر ڈھونڈ رہا ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

سب یہ کہتے ہیں تم بے وفا ہو گئے

لوگ سارے ہی اب تو خفا ہو گئے

 

جو ملا مجھ کو وہ داغ ہی دے گیا

جو بھی ساتھی ملے کیا سے کیا ہو گئے

 

سب ہی بیگانے بیگانے ہونے لگے

اپنے سب دُور کی اب صدا ہو گئے

 

عمر گزری ہے میری سسکتے ہوئے

سارے درد و الم آشنا ہو گئے

 

ایسی تقدیر ہو گی یہ سوچا نہ تھا

میری قسمت کے تارے فنا ہو گئے

 

ہر طرف ہی یزیدوں کی اب فوج ہے

سارے رستے ہی کرب و بلا ہو گئے

 

میرے حصے کے جو سُکھ تھے مجھ کو ملے

کر کے اِک ایک سارے جُدا ہو گئے

 

کیا رکھیں آس مل جائیں گی منزلیں

خود جو بھٹکے تھے وہ رہنما ہو گئے

 

جا رہے ہو اے فیصلؔ کفن اوڑھ کے

تم سبھی مشکلوں سے رِہا ہو گئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

محبوب ہو ساجن مِرا دلدار کوئی ہو

دل میں رہی حسرت مرا غمخوار کوئی ہو

 

کوئی تو ہو دنیا میں جو دُکھ درد بھی بانٹے

ٹوٹے ہوئے سپنوں کا خریدار کوئی ہو

 

دل چیز ہے کیا جان بھی ہم نام لگا دیں

انمول سی چاہت کا طلبگار کوئی ہو

 

آ جائیں گے بازار میں ہم بکنے کی خاطر

لینے کے لیے تو سرِ بازار کوئی ہو

 

کوئی تو ہو جو دیکھے اِدھر آنکھ اُٹھا کر

میرا بھری دنیا میں طرفدار کوئی ہو

 

ویرانۂ دل میں نہیں دیکھا کوئی فیصلؔ

خواہش ہے کہ آبادی کا آثار کوئی ہو

٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

کچھ ہم نہ کہیں گے تجھے رُسوا نہ کریں گے

دنیا سے تِرے پیار کا چرچا نہ کریں گے

 

صورت تو دکھا جاؤ کہ تسکین ہو دل کی

ہم آنکھ ملانے کا تقاضا نہ کریں گے

 

اِک بار وہ کہہ دے کہ نہیں کوئی بھی رشتہ

تنہائی میں ہم بیٹھ کے رویا نہ کریں گے

 

مخمور نگاہوں کا ملے جام چھلکتا

ہم لوگ طلب ساغر و مینا نہ کریں گے

 

جس چیز کے بدلے میں ترا پیار گنوا دوں

ہم زیست میں ایسا کبھی سودا نہ کریں گے

 

مل جائے وہ اِک شخص تو مل جائے گی دنیا

بعد اس کے کوئی اور تمنا نہ کریں گے

 

حالات کی گرمی سے جھُلس جائے گا فیصلؔ

گر پیار کا ٹھنڈا سا وہ سایہ نہ کریں گے

Share this post


Link to post
Share on other sites

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

 

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے

آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

 

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ

منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

 

مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری

اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا

 

جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ

مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...