Jump to content

sunrise

Members
  • Content Count

    771
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by sunrise

  1. دل منافق تھا شبِ ہجر میں سویا کیسا اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
  2. نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
  3. بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے بن تمہارے کبھی نہیں آئی کیا مری نیند بھی تمہاری ہے آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن سانس جو چل رہی ہے آری ہے اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں رات دن تیری انتظاری ہے ہجر ہو یا وصال ہو کچھ ہو ہم ہیں اور اس کی یادگاری ہے اک مہک سمت دل سے آئی تھی میں یہ سمجھا تری سواری ہے حادثوں کا حساب ہے اپنا ورنہ ہر آن سب کی باری ہے خوش رہے تو کہ زندگی اپنی عمر بھر کی امیدواری ہے
  4. اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا
  5. I purchased KHULOOD perfume for my wife on my nikah anniversary. It has lovely fragrance and I personally like it. It aroma is wonderful which is feeling calm and relaxing.
  6. کھو کر میں کسے اور کدھر ڈھونڈ رہا ہوں آئے نہ سمجھ کس کو اِدھر ڈھونڈ رہا ہوں بھٹکا ہوا ہوں دشت کے پُر خار سفر میں دکھلائے جو رہ ایسی نظر ڈھونڈ رہا ہوں گزرے تھے جہاں سے کبھی ہم دونوں کے سائے کب سے میں وہی راہ گزر ڈھونڈ رہا ہوں پاگل ہوں میں کتنا، ہیں عجب خواہشیں میری تاریک سی راتوں میں سحر ڈھونڈ رہا ہوں اُکھڑے نہ جو طوفان سے اور تیز ہَوا سے بکھرے نہ خزاں میں وہ شجر ڈھونڈ رہا ہوں اِس دل کے دریچے میں کئی لوگ ہیں آئے جو رُوح میں اُترے وہ نظر ڈھونڈ رہا ہوں ہیں لوگ بہت پر یہاں انسان نہیں ہیں ہو پورا جو انساں وہ بشر ڈھونڈ رہا ہوں کتبہ ہو لکھا جس پہ ترے نام کا فیصلؔ وہ قبر میں ہر ایک نگر ڈھونڈ رہا ہوں
  7. ﮔِﻠﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮩﯽ، ﺣﺪ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﺍِﺱ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﻁِ ﺍﺩﺏ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﻣِﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﻟﮯ ﯾﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺗﻮ ﺳُﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﮯ ﺑﮯ ﺳَﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺳَﺒﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ، ﺍِﻧﮑﺎﺭ ﮨﻢ ﺳُﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ، ﺍِﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮨﻮ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﯾﮧ ﮨُﻮﺍ ﮨﮯ، ﮐﮧ ﺍﺏ ﻟﮍﯾﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﮟ ﺗِﺮﯼ ﻗُﺮﺑﺖ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺍِﺱ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻧﻘﺶ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﯾﺖ ﭘﺮ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﭙﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺗِﯿﺮﮔﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩ ﭼﺮﺍﻍ ﮨﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ
  8. ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فرازؔ غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے
  9. چھپائے دل میں غموں کا جہان بیٹھے ہیں تمہاری بزم میں ہم بے زبان بیٹھے ہیں یہ اور بات کہ منزل پہ ہم پہنچ نہ سکے مگر یہ کم ہے کہ راہوں کو چھان بیٹھے ہیں فغاں ہے، درد ہے، سوز و فراق و داغ و الم ابھی تو گھر میں بہت مہربان بیٹھے ہیں اب اور گردشِ تقدیر کیا ستائے گی لٹا کے عشق میں نام و نشان بیٹھے ہیں وہ ایک لفظ محبت ہی دل کا دشمن ہے جسے شریعتِ احساس مان بیٹھے ہیں ہے میکدے کی بہاروں سے دوستی ساغرؔ ورائے حدِ یقین و گمان بیٹھے ہیں
  10. آپ ھیرا ، صدف ، نگیں ، کیوں ھیں ؟ آپ بے انتہا حسیں ، کیوں ھیں؟؟ آپ کی کاکلوں کے جنگل میں اتنی موسیقیاں ، مکیں کیوں ھیں؟؟ . چاند خود بھی نہیں سمجھ پایا آپ اس درجہ مہ جبیں ، کیوں ھیں؟؟ . شمس حیراں ھے ، آپ کے عارض پھول ھو کر بھی ، آتشیں کیوں ھیں؟؟ . آپ اتنے دروغ گو ھو کر اس قدر قابلِ یقیں ، کیوں ھیں؟؟ . شاعروں کے دلوں پہ آپ چلیں گامزن ، برسرِ زمیں ، کیوں ھیں؟؟ . جتنے بے رحم دلربا ھیں ، عدم اتنے محبوب ، دلنشیں ، کیوں ھیں؟؟ .
  11. بڑے ناز سے سویا تھا وہ ھمارے سینے پر سر رکھ کر اے ساغر ھم نے دھڑکن ھی روک لی کہیں اس کی نیند نہ ٹوٹ جاۓ
  12. بہت بھیڑ تھی انکے دل میں نکلتے نہ تو نکال دیے جاتے شکوے تو بہت تھے یار سے اظہار کرتے تو بے وفا سمجھے جاتے ہم نے لاکھ ان کو منانے کی کوشش کی ضد جو کرتے تو مطلبی کہے جاتے خنجر جو جگر پہ لگا سہا ہنس کر ہم نے انکار جو کرتے کافر کہلائے جاتے
  13. تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے سید صادق حسین
  14. تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے سید صادق حسین
  15. پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظر مارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے اقبال ساجد
  16. آنکھ ٹکتی نہ تھی چہرے پہ حسین ایسا تھا دل کی دنیا میں کوئی جلوہ نشین ایسا تھا دسترس میں تھی مگر پا نہ سکا وہ مجھ کو دل میں اک عمر سے وہ شخص مکین ایسا تھا عہد و پیماں سے مکرنے کا سلیقہ تھا اسے دیتا رہتا تھا دلیلیں وہ ذہین ایسا تھا اب تو بنجر ہوا ویراں ہوا برباد ہوا خطۂ دل کبھی شاداب زمین ایسا تھا مجھ کو جاگیر سمجھتا تھا وہ اپنی جاناں میں اسی کی ہوں اسے مجھ پہ یقین ایسا تھا جاناں ملک
  17. شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلے دکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلے جمال یار سے روشن ہوئی مری دنیا وہ چمکی دل میں کرن ماہتاب سے پہلے دل و نگاہ پہ کیوں چھا رہا ہے اے ساقی یہ تیری آنکھ کا نشہ شراب سے پہلے نہ پیش نامۂ اعمال کر ابھی اے جوشؔ حساب کیسا یہ روز حساب سے پہلے
  18. مسکراہٹ دیکھ کر ان کی ہم ہوش گنوا بیٹھ ہم ہوش میں آنے کو تھے وہ پھر مسکرا بیٹھے
  19. کوئی تو بات ہے اُس میں فیض... ہر خُوشی جِس پہ لُٹا دی ہم نے...
  20. کُجھ شوق سِی یار فقیری دا کُجھ عشق نے دَر دَر رول دِتا کُجھ سجنا کَسر نہ چُھوڑی سِی کُجھ زہر رَقیباں گھول دِتا کُجھ ہجر فِراق داَ رنگ چٹرہیا کُجھ دردِ ماہی انمول دِتا کُجھ سڑ گئی قسمت میری کُجھ پیار وِچ یاراں رُول دِتا کُجھ اونج وِی رہواں اوکھیاں سَن کُجھ گل وِچ غم داَ طوق وِی سِی کُجھ شہر دے لوگ وِی ظالم سنَ کُجھ سانوں مَرن دا شوق وِی سی
  21. یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں اک تماشہ ہے اور کچھ بھی نہیں اک تری آرزو سے ہے آباد ورنہ اس دل میں اور کچھ بھی نہیں عشق رسم و رواج کیا جانے یہ طریقے یہ طور کچھ بھی نہیں وہ ہمارے ہم ان کے ہو جائیں بات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں جلنے والوں کو صرف جلنا ہے ان کی قسمت میں اور کچھ بھی نہیں اے نصیر انتظار کا عالم اک قیامت ہے اور کچھ بھی نہیں
  22. کوئی ایسا جادو ٹونہ کر. مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے۔۔
  23. بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے گناہ ترک بادہ کر لیا کیا یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا بہت نزدیک آتی جا رہی ہو بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
  24. اَدائیں حشر جگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خیال حرف نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بہشتی غنچوں میں گوندھا گیا صراحی بدن گلاب خوشبو چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے قدم ، اِرم میں دَھرے ، خوش قدم تو حور و غلام چراغ گھی کے جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے دِہکتا جسم ہے آتش پرستی کی دعوت بدن سے شمع جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال قسمیں ستاروں کی دے کے عرض کریں حُضور! چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چمن کو جائے تو دَس لاکھ نرگسی غنچے زَمیں پہ پلکیں بچھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کڑکتی بجلیاں جب جسم بن کے رَقص کریں تو مور سر کو ہلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین پریاں چلیں ساتھ کر کے ’’سترہ‘‘ سنگھار اُسے نظر سے بچائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے یہ شوخ تتلیاں ، بارِش میں اُس کو دیکھیں تو اُکھاڑ پھینکیں قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ پنکھڑی پہ اَگر چلتے چلتے تھک جائے تو پریاں پیر دَبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ چاند عید کا اُترے جو دِل کے آنگن میں ہم عید روز منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے زَمیں پہ خِرمنِ جاں رَکھ کے ہوشمند کہیں بس آپ بجلی گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جنہوں نے سائے کا سایہ بھی خواب میں دیکھا وُہ گھر کبھی نہ بسائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اُداس غنچوں نے جاں کی اَمان پا کے کہا یہ لب سے تتلی اُڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کمر کو کس کے دوپٹے سے جب چڑھائے پینگ دِلوں میں زَلزلے آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ آبشار میں بندِ قبا کو کھولے اَگر تو جھرنے پیاس بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے شریر مچھلیاں کافِر کی نقل میں دِن بھر مچل مچل کے نہائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حلال ہوتی ہے ’’پہلی نظر‘‘ تو حشر تلک حرام ہو جو ہٹائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو کام سوچ رہے ہیں جناب دِل میں اَبھی وُہ کام بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے نہا کے جھیل سے نکلے تو رِند پانی میں مہک شراب سی پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چرا کے عکس ، حنا رَنگ ہاتھ کا قارُون خزانے ڈُھونڈنے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کُنواری دِیویاں شمعیں جلا کے ہاتھوں پر حیا کا رَقص دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چنے گلاب تو لگتا ہے پھول مل جل کر مہکتی فوج بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال نقشِ قدم چوم چوم کر پوچھیں کہاں سے سیکھی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے سرہانے میر کے ٹُک فاتحہ کو گر وُہ جھکے تو میر جاگ ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
  25. اچھی آنکھوں کے پجاری ہیں میرے شہر کے لوگ توں مرے شہر میں آئے گا تو چھا جائے گا ھم قیامت بھی اُٹھائیں گے تو ھوگا نہیں کچھ تُو فقط آنکھ اُٹھائے گا تو چھا جائے گا پھُول تو پھُول ھیں ، وہ شخص اگر کانٹے بھی اپنے بالوں میں سجائے گا تو چھا جائے گا یُوں تو ھر رنگ ھی سجتا ھے برابر تجھ پر سُرخ پوشاک میں آئے گا تو چھا جائے گا پنکھڑی ھونٹ ، مدھر لہجہ اور آواز اُداس یار ! تُو شعر سُنائے گا تو چھا جائے گا جس مصور کی نہیں بِکتی کوئی بھی تصویر تیری تصویر بنائے گا تو چھا جائے گا جبر والوں کی حکومت ھے فقط چند ہی روز صبر میدان میں آئے گا تو چھا جائے گا
×
×
  • Create New...