Jump to content

sunrise

Members
  • Content Count

    771
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

39 Excellent

About sunrise

  • Rank
    Well-known member
  • Birthday 01/01/1970

Converted

  • Gender
    male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. دل منافق تھا شبِ ہجر میں سویا کیسا اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
  2. نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
  3. بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے بن تمہارے کبھی نہیں آئی کیا مری نیند بھی تمہاری ہے آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن سانس جو چل رہی ہے آری ہے اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں رات دن تیری انتظاری ہے ہجر ہو یا وصال ہو کچھ ہو ہم ہیں اور اس کی یادگاری ہے اک مہک سمت دل سے آئی تھی میں یہ سمجھا تری سواری ہے حادثوں کا حساب ہے اپنا ورنہ ہر آن سب کی باری ہے خوش رہے تو کہ زندگی اپنی عمر بھر کی امیدواری ہے
  4. اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا
  5. I purchased KHULOOD perfume for my wife on my nikah anniversary. It has lovely fragrance and I personally like it. It aroma is wonderful which is feeling calm and relaxing.
  6. کھو کر میں کسے اور کدھر ڈھونڈ رہا ہوں آئے نہ سمجھ کس کو اِدھر ڈھونڈ رہا ہوں بھٹکا ہوا ہوں دشت کے پُر خار سفر میں دکھلائے جو رہ ایسی نظر ڈھونڈ رہا ہوں گزرے تھے جہاں سے کبھی ہم دونوں کے سائے کب سے میں وہی راہ گزر ڈھونڈ رہا ہوں پاگل ہوں میں کتنا، ہیں عجب خواہشیں میری تاریک سی راتوں میں سحر ڈھونڈ رہا ہوں اُکھڑے نہ جو طوفان سے اور تیز ہَوا سے بکھرے نہ خزاں میں وہ شجر ڈھونڈ رہا ہوں اِس دل کے دریچے میں کئی لوگ ہیں آئے جو رُوح میں اُترے وہ نظر ڈھونڈ رہا ہوں ہیں لوگ بہت پر یہاں انسان نہیں ہیں ہو پورا جو انساں وہ بشر ڈھونڈ رہا ہوں کتبہ ہو لکھا جس پہ ترے نام کا فیصلؔ وہ قبر میں ہر ایک نگر ڈھونڈ رہا ہوں
  7. ﮔِﻠﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮩﯽ، ﺣﺪ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﺍِﺱ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﻁِ ﺍﺩﺏ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﻣِﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﻟﮯ ﯾﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺗﻮ ﺳُﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﮯ ﺑﮯ ﺳَﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺳَﺒﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ، ﺍِﻧﮑﺎﺭ ﮨﻢ ﺳُﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ، ﺍِﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮨﻮ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﯾﮧ ﮨُﻮﺍ ﮨﮯ، ﮐﮧ ﺍﺏ ﻟﮍﯾﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﮟ ﺗِﺮﯼ ﻗُﺮﺑﺖ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺍِﺱ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻧﻘﺶ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﯾﺖ ﭘﺮ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﭙﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺗِﯿﺮﮔﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩ ﭼﺮﺍﻍ ﮨﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ
  8. ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فرازؔ غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے
  9. چھپائے دل میں غموں کا جہان بیٹھے ہیں تمہاری بزم میں ہم بے زبان بیٹھے ہیں یہ اور بات کہ منزل پہ ہم پہنچ نہ سکے مگر یہ کم ہے کہ راہوں کو چھان بیٹھے ہیں فغاں ہے، درد ہے، سوز و فراق و داغ و الم ابھی تو گھر میں بہت مہربان بیٹھے ہیں اب اور گردشِ تقدیر کیا ستائے گی لٹا کے عشق میں نام و نشان بیٹھے ہیں وہ ایک لفظ محبت ہی دل کا دشمن ہے جسے شریعتِ احساس مان بیٹھے ہیں ہے میکدے کی بہاروں سے دوستی ساغرؔ ورائے حدِ یقین و گمان بیٹھے ہیں
  10. آپ ھیرا ، صدف ، نگیں ، کیوں ھیں ؟ آپ بے انتہا حسیں ، کیوں ھیں؟؟ آپ کی کاکلوں کے جنگل میں اتنی موسیقیاں ، مکیں کیوں ھیں؟؟ . چاند خود بھی نہیں سمجھ پایا آپ اس درجہ مہ جبیں ، کیوں ھیں؟؟ . شمس حیراں ھے ، آپ کے عارض پھول ھو کر بھی ، آتشیں کیوں ھیں؟؟ . آپ اتنے دروغ گو ھو کر اس قدر قابلِ یقیں ، کیوں ھیں؟؟ . شاعروں کے دلوں پہ آپ چلیں گامزن ، برسرِ زمیں ، کیوں ھیں؟؟ . جتنے بے رحم دلربا ھیں ، عدم اتنے محبوب ، دلنشیں ، کیوں ھیں؟؟ .
  11. بڑے ناز سے سویا تھا وہ ھمارے سینے پر سر رکھ کر اے ساغر ھم نے دھڑکن ھی روک لی کہیں اس کی نیند نہ ٹوٹ جاۓ
  12. بہت بھیڑ تھی انکے دل میں نکلتے نہ تو نکال دیے جاتے شکوے تو بہت تھے یار سے اظہار کرتے تو بے وفا سمجھے جاتے ہم نے لاکھ ان کو منانے کی کوشش کی ضد جو کرتے تو مطلبی کہے جاتے خنجر جو جگر پہ لگا سہا ہنس کر ہم نے انکار جو کرتے کافر کہلائے جاتے
  13. تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے سید صادق حسین
  14. تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے سید صادق حسین
  15. پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظر مارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے اقبال ساجد
×
×
  • Create New...