Jump to content

Mehak

Members
  • Content Count

    357
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

21 Excellent

About Mehak

  • Rank
    Well-known member
  • Birthday 01/01/1980

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. جو لطف مے کشی ہے نگاروں میں آئے گا جو لطف مے کشی ہے نگاروں میں آئے گا یا با شعور بادہ گساروں میں آئے گا وہ جس کو خلوتوں میں بھی آنے سے عار ہے آنے پہ آئے گا تو ہزاروں میں آئے گا ہم نے خزاں کی فصل چمن سے نکال دی ہم کو مگر پیام بہاروں میں آئے گا اس دور احتیاج میں جو لوگ جی لئے ان کا بھی نام شعبدہ کاروں میں آئے گا جو شخص مر گیا ہے وہ ملنے کبھی کبھی پچھلے پہر کے سرد ستاروں میں آئے گا
  2. اے دوست! تری آنکھ جو نم ہے تو مجھے کیا اے دوست! تری آنکھ جو نم ہے تو مجھے کیا میں خوب ہنسوں گا تجھے غم ہے تو مجھے کیا کیا میں نے کہا تھا کہ زمانے سے بھلا کر اب تو بھی سزاوار ستم ہے تو مجھے کیا ہاں لے لے قسم گر مجھے قطرہ بھی ملا ہو تو شاکیٔ ارباب کرم ہے تو مجھے کیا جس در سے ندامت کے سوا کچھ نہیں ملتا اس در پہ ترا سر بھی جو خم ہے تو مجھے کیا میں نے تو پکارا ہے محبت کے افق سے رستے میں ترے سنگ حرم ہے تو مجھے کیا بھولا تو نہ ہوگا تجھے سقراط کا انجام ہاتھوں میں ترے ساغر سم ہے تو مجھے کیا پتھر نہ پڑیں گر سر بازار تو کہنا تو معترف حسن صنم ہے تو مجھے کیا میں سرمد و منصور بنا ہوں تری خاطر یہ بھی تری امید سے کم ہے تو مجھے کیا
  3. اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا زندگی بھاگ چلی موت کے دروازے سے اب قفس کون سا ایجاد کرے گی دنی ہم تو حاضر ہیں پر اے سلسلۂ جور قدیم ختم کب ورثۂ اجداد کرے گی دنیا سامنے آئیں گے اپنی ہی وفا کے پہلو جب کسی اور کو برباد کرے گی دنیا کیا ہوئے ہم کہ نہ تھے مرگ بشر کے قائل لوگ پوچھیں گے تو فریاد کرے گی دنیا اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا زندگی بھاگ چلی موت کے دروازے سے اب قفس کون سا ایجاد کرے گی دنی ہم تو حاضر ہیں پر اے سلسلۂ جور قدیم ختم کب ورثۂ اجداد کرے گی دنیا سامنے آئیں گے اپنی ہی وفا کے پہلو جب کسی اور کو برباد کرے گی دنیا کیا ہوئے ہم کہ نہ تھے مرگ بشر کے قائل لوگ پوچھیں گے تو فریاد کرے گی دنیا
  4. خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم بچھڑ گیا تری صورت بہار کا موسم کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لوٹ آئے سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم پیام آیا ہے پھر ایک سرو قامت کا مرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہے مرے بدن کو ملا ہے چنار کا موسم رفاقتوں کے نئے خواب خوش نما ہیں مگر گزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم ہوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیں زمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم وہ میرا نام لیے جائے اور میں اس کا نام لہو میں گونج رہا ہے پکار کا موسم قدم رکھے مری خوشبو کہ گھر کو لوٹ آئے کوئی بتائے مجھے کوئے یار کا موسم وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائے مرا غرور ہے بیلے کے ہار کا موسم ترے طریق محبت پہ بارہا سوچا یہ جبر تھا کہ ترے اختیار کا موسم
  5. یاد ہے انکی عنایت ظلم ڈھانا یاد ہے یاد ہے انکی عنایت ظلم ڈھانا یاد ہے جانَ من مجھکو محبت کا زمانا یار ہے ہم جہاں چھپ چھپ کے ملتے تھےکبھی جانَ جہاں آج بھی وہ راستہ اور وہ ٹھکانا یاد ہے بھول بیٹھے ہیں ستم کے آپ ہی قصے مگر درد غم آنسو کا مجھکو ہر فسانہ یاد ہے اس لیے دور َ پریشانی سے گھبراتا نہیں مشکلوں میں انکا مجھکو مسکرانا یاد ہے گھر کے باہر یک بیک سن کر میری آواز کو بن د پٹا تیرا دروازے پہ آنا یاد ہے جان سے اپنی گیا پا کر اشارہ جو تیرا کیا تجھے اپنا ستمگر وہ د وانہ یاد ہے حکم سے کس کے گری تصدیق بجلی کیا پتہ ہمکو جلتا صرف اپنا آشیانہ یاد ہے
  6. کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ میں مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے میں اک آگ تھی وہ سرد ہوئی کبھی نگاہ میں جو تھا شرار جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بے چین قرار آیا تو جیسے قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوگی محفل میں میں یہ امید لیے بار بار جاتا رہا
  7. جب سے تیری چھاپ لگی ہے مجھے جب سے تیری چھاپ لگی ہے مجھے ہر لحظہ آس سی لگی ہے مجھے کر دیگا سرشار اک روز تو مجھے کیوں یہ خوش گمانی سی رہتی ہے مجھے لوگ کہتے ہیں بڑا مغرور ہے میرا سجن پھر بھی میری تو سانس بندھی ہے ۴ سے بھلا کسی نے پتھر کو پگھلتے ہے دیکھا؟ نہ جانے کیوں مجھے پتھر سے آبشار نکالنے کی ضد سی چڑھی ہے؟ آآنکھیں بن گئی ہیں ساکت سی جھیلیں کچھ ایسے عکس کی اس کے شبیہ سی بنی ہے
  8. حسین سا چہرہ میری آنکھوں میں جو اک حسین سا چہرا ہے اس پہ گیسوے دراز کا پہرا ہے کل شب رخ انور سے نقاب جو ہٹایا تمام رات چاند اسے دیکھنے کو ٹھہرا ہے ہم شیش محل والوں سے کیونکر محبت کر بیتھے یہ جانتے ہوئے بھی، کہ قسمت میں چادر صحرا ہے قسمت نے ہمیں، تیری جھولی میں ڈال دیا ناصر چلو اب دیکھتے ہیں، کیا سلوک تیرا ہے
  9. خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں مد ہوش اکثر ہوجاتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں ہوش والوں میں جاتا ہوں تو الجھتی ہے طبعیت سو با ہوش پڑا رہتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں تو من میں میرے آ جا میں تجھ میں سما جاؤں ادھورے خواب سمجھتا ہوں اورتجھے سوچتا ہوں جمانے لگتی ہیں جب لہو میرا فر خت کی ہوائیں تو شال قر بت کی اوڑھتا اور تجھے سوچتا ہوں
×
×
  • Create New...